نئی دہلی،30؍اپریل (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا )حکومت نے درمیانی مدت کے تحت یعنی کمیشنڈ پروجیکٹوں والے جنریٹروں سے لیکن بغیر بجلی خریداری معاہدے کے3سال کے لیے مسابقتی بنیاد پر مجموعی طور پر 2500 میگاواٹ بجلی کی حصولیابی کیلئے ایک پائلٹ اسکیم کاآغازکیاہے۔ بجلی کے وزیرنے حال ہی میں 6اپریل 2018 کو ماڈل ٹینڈر دستاویزات ، ماڈل پی اے پی پی اور پی پی ایس اے جاری کیے تھے۔ اس اسکیم کے لیے رہنما خطوط 10اپریل 2018کوجاری کیے گئے۔اس سلسلے میں پی ایف سی کنسلٹنگ لمیٹیڈ (پی ایف سی لمیٹیڈ کی مکمل ملکیت والی معاون کمپنی)کو ناڈل ایجنسی اور پی ٹی سی انڈیا لمیٹیڈ کو ایگری گیٹر مقرر کیا گیا ہے ۔پی ٹی سی انڈیا کامیاب ہونے والے ٹینڈر دہندگان کے ساتھ بجلی کی حصولیابی کے لیے تین سال (درمیانی مدت)کے معاہدے اورڈسکامس کے ساتھ بجلی سپلائی کے معاہدے پر دستخط کرے گی۔اس اسکیم کے تحت ایک ادارے کو زیادہ سے زیادہ600میگاواٹ بجلی مختص کی جاسکتی ہے۔ اس کے لئے فہرست شرح تین سال کے لیے مقررکی جائے گی جس میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔